Experience YourListen.com completely ad free for only $1.99 a month. Upgrade your account today!

Sangeet انوپ جلوٹا براہ ر…است فجی محفل میں غزل مکھڑے

Embed Code (recommended way)
Embed Code (Iframe alternative)
Please login or signup to use this feature.

Sangeet Shumaila Khan thanks
آس جب بن کے توٹ جاتی ہے روح کس طرح کسمساتی ہے
پوچھ اُس بدنصیب دلہن سے جِس کی بارات لوٹ جاتی ہے
ظلمتِ شب کو ستاروں سے سنوارا ہم نے ،
کتنی راتوں کو ، کتنی راتوں کو تجھے اُٹھ کے پکارا ہم نے
کتنی راتوں کو تجھے اُٹھ کے پکارا ہم نے
ظلمتِ شب کو ستاروں سے سنوارا ہم نے
سَرَ جِس پے نا جھک جائے ، اُسے دَرَ نہیں کہتے
ہر دَر پے جو جھُک جائے اُسے سَرَ نہیں کہتے
کٹے گی یہ زندگی اب روتے روتے
کٹے یہ اب زندگی روتے روتے یہ کہہ کر کئی ہیں خوشی روتے روتے
کٹے یہ اب زندگی روتے روتے یہ کہہ کر کئی ہیں خوشی روتے روتے
چاند انگڑائیاں لے رہا ہے ، چاند انگڑائیاں لے رہا ہے
انگڑائیاں ، انگڑائیاں ، چاند انگڑائیاں لے رہا
چاندنی مسکرانے لگی ہے
چاند انگڑائیاں لے رہا ہے چاندنی مسکرانے لگی ہے
ایک بھولی ہوئی سی کہانی پھر مجھے یاد آنے لگی ہے
چاند انگڑائیاں لے رہا ہے چاندنی مسکرانے لگی ہے
جام چلنے لگے دل مچلنے لگے
چہرے چہرے پہ رنگِ شراب آ گیا
بات کچھ بھی نا تھی بات اتنی ہوئی
آج محفل میں وہ بے نقاب آ گیا
آ آ آ آ آ آ آ گلشن تھا لالا زار ابھی کل کی بات ہے
ہر گُل پے تھا نکھار ابھی کل کی بات ہے
غزل میں ، غزل میں بندش و الفاظ ہی نہیں کافی
غزل میں بندش و الفاظ نہیں کافی
جگر خون بھی کچھ چاہیئے اثر کے لیئے
تمہارے شہر کا موسم ، موسم موسم موسم موسم
تمہارے شہر کا موسم تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانہ لگے
تمہارے شہر کا موسم برا سہانہ لگے
میں ایک شام چُرا لوں اگر بُرا نا لگے
ساغر سے صراحی ٹکراتی ، ساغر سے صراحی ٹکراتی بادل کو پسینہ آ جاتا
تم زلف کو اگر بھکرا دیتے ساون کا مہینہ آ جاتا
میں خد ہی اپنی تلاش میں ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Licence : All Rights Reserved


X