او زندگی یوں آ گلے نال لگی ہے ، آ لگی ہے گلزار
00:00
00:00
Embed Code (recommended way)
Embed Code (Iframe alternative)
Please login or signup to use this feature.

رب لبھیا پاپیاں نوں
جنہاں چنگے کم نا ، چنگے لگدے
او کیویں پند کیجیئے
ایسیں چول پا کے وی ننگے لگدے
آآ آآ آآ
او
او زندگی یوں آ گلے نال لگی ہے ، آ لگی ہے
کوئی کھویا ہوا برسوں کے بعد آ گیا
او پھیکے پھیکے تھے دن رات میرے ، ساتھ میرے
چھُوا تونے تو جینے کا سواد آ گیا
اک طرح کے آوارہ تھے
اک طرح کی آوارگی
دیوانے تو پہلے بھی تھے
اب اور طرح کی دیوانگی
سجدے بچھاواں وے
او گلی گلی ، او گلی گلی ، او گلی گلی
اس شہر وچ میرا یار وسدا
کمانا پیندا اے ۔ ۔ او کھادکے او کھاد کے
ہو اتھے رب نا کوئی ادھار لبھدا
اک خواب نے آنکھیں کھولی ہیں
کیا موڑ آیا ہے کہانی میں
وہ بھیگ رہی ہے بارش میں
ہممممممممممممم ۔ ۔ ۔ ۔ اور آگ لگی ہے پانی میں
خوابی خوابی سی لگتی ہے دُنیا
آنکھوں میں یہ کیا بھر آیا رہا ہے
مرنے کی عادت لگی تھی
کیوں جینے کو جی کرتا رہا ہے
پہلے تو بیگانی نگری میں
ہم کو کسی نے پوچھا نا تھا
سارا شہر جب مان گیا تو
لگتا ہے کیوں کوئی روٹھا نا تھا
سجدے بچھاون وے
او گلی گلی ، او گلی گلی ، او گلی گلی
جس شہر چے میرا وسدا
کمانا پیندا اے ۔ ۔ او کھادکے او کھاد کے
ہو اتھے رب نا کوئی ادھار لبھدا
او ۔ ۔ زندگی یوں گلے آ لگی ہے ، آ لگی ہے
کوئی کھویا برسوں کے بعد آ گیا
اک طرح کے آوارہ تھے
اک طرح کی آوارگی
دیوانے تو پہلے بھی تھے اب
اب اور طرح کی دیوانگی
سجدے بچھاون وے
او گلی گلی ، او گلی گلی ، او گلی گلی
جس شہر چے میرا وسدا
کمانا پیندا اے ۔ ۔ او کھادکے او کھاد کے
ہو اتھے رب نا کوئی ادھار لبھدا
ہو اتھے رب نا کوئی ادھار لبھدا

Licence : All Rights Reserved


X